ٹیم کمبی نیشن کیا ہو؟ انضمام نے بتا دیا 41

ٹیم کمبی نیشن کیا ہو؟ انضمام نے بتا دیا

ملتان(اجالا نیوز-24جنوری-2021)
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ٹیسٹ سیریز کے آغاز میں اب صرف دو روز باقی ہے۔ تیرہ سال سے زائد عرصہ بعد دونوں ٹیمیں پاکستان کی سرزمین پر کسی ٹیسٹ میچ میں مدمقابل آئیں گی۔ پاکستان کی قیادت مڈل آرڈر بیٹسمین بابراعظم اور جنوبی افریقہ کی کپتانی وکٹ کیپر بیٹسمین کوئنٹن ڈی کوک کررہے ہیں۔
دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز چھبیس جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوگا۔ اس موقع پر پی سی بی ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے بعد کسی ٹاپ رینک ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا پوری قوم کے لیے ایک خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انٹرنیشنل ٹیسٹ کرکٹ کی مکمل واپسی پاکستان میں کرکٹ کی مزید ترقی اور فروغ کا سبب بنے گی۔
آخری مرتبہ 2007 میں پاکستان کا دورہ کرنے والی جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم سے جڑی اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ 2007 میں انہیں نیا قومی ریکارڈ بنانے کے لیے مزید 18 رنز درکار تھے مگر وہ صرف تین رنز کی کمی سے جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہے، شاید قسمت کو یہی منظور تھا کہ جاوید میانداد کا نام اس ریکارڈ لسٹ میں ان سے اوپر رہے کیونکہ جاوید میانداد ان کے ہیرو تھے، انہوں نے جاوید میانداد سے بہت کرکٹ سیکھی۔
سابق ٹیسٹ کپتان نے منگل سے شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیریز پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کی اکثریت نے ابھی تک اپنے ہوم گراؤنڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا سہی مزہ نہیں چکھا، موجودہ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں نے اپنی انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز ہی متحدہ عرب امارات سے کیا. انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی اسٹار سے سپر اسٹار تب ہی بنتا ہے کہ جب وہ اپنے گراؤنڈ میں کھیلتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیریز اسکواڈ میں شامل نئے کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین موقع ہے، ان کھلاڑیوں نے کراچی میں کھیلے گئے حالیہ ڈومیسٹک ایونٹس میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انضمام الحق نے کہا کہ ایک نئے کھلاڑی کے لیے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کے آغاز کا اس سے اچھا موقع اور کیا ہوسکتا ہے کہ اسے انہی کنڈیشنز پر ڈیبیو کا موقع مل جائے کہ جہاں نمایاں کارکردگی کی بدولت ہی اسے قومی اسکواڈ میں منتخب کیا گیا ہو۔
انضمام الحق نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان کا ریکارڈ بہت اچھا ہے، وہاں کی کنڈیشنز میں چائے کے وقفے کے بعد گیند ریورس سوئنگ ہونا شروع ہوجاتا ہے، پاکستان کی ٹیم کو 5 بیٹسمین اور 5 باؤلر کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان 5 باؤلر میں 2 فاسٹ باؤلر، 2 اسپنر اور ایک الراؤنڈر شامل ہونا چاہیے، یہی کمبی نیشن ان کنڈیشنز پر سازگار بھی رہتا ہے۔
سابق ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ بابراعظم نے محدود طرز کی کرکٹ میں ثابت کرکے دکھایا ہے کہ ان پر کپتانی کا کوئی اضافی دباؤ نہیں ہے، وہ بیٹنگ اور کپتانی دونوں ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہیں تاہم انجری کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا دباؤ ان کے ذہن میں ضرور ہوگا لیکن وہ بڑے منجھے ہوئے اور باصلاحیت کھلاڑی ہیں کہ جو دباؤ سے نکلنے کا ہنر جانتے ہیں۔
انضمام الحق کا کہنا ہے کہ 9 نئے کھلاڑیوں کی اسکواڈ میں شمولیت کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم قابل اور باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، پاکستان کی کنڈیشنز جنوبی افریقہ کے لیے کسی صورت آسان نہیں ہوں گی۔

سابق ٹیسٹ کپتان نے کہا گوکہ نیوزی لینڈ میں نتائج پاکستان کے حق میں نہیں رہے مگر ان کنڈیشنز میں پاکستان کی وہ کارکردگی بری نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ بطور کرکٹر اور بیٹسمین ان کے خیال میں ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے مشکل کنڈیشنز نیوزی لینڈ میں ہی ہوتی ہیں، لہٰذا قومی کھلاڑیوں کو دورہ نیوزی لینڈ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ جنوبی افریقہ کی ٹیم نے اپنی ہوم کنڈیشنز پر ابھی سری لنکا کو شکست دی ہے مگر یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں بہت فرق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں