13

کیا امریکا کے آئندہ صدر جوبائیڈن کے اجداد کا تعلق بھی بھارت سے ہے۔؟

امریکا (اجالا نیوز-15نومبر-2020)
امریکا کے 59 ویں صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کی کامیابی کے ساتھ ساتھ کمالہ دیوی ہیرس امریکی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئی ہیں۔
یہ بات تو تقریباً سب جان ہی چکے ہیں کہ امریکاکی منتخب نائب صدرکمالہ دیوی ہیرس کی والدہ کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے ہے تاہم اب منتخب نائب صدر جو بائیڈن کا بھی بھارت سے مبینہ تعلق سامنے آرہا ہے۔
امریکی صدارتی انتخاب میں جوبائیڈن کی کامیابی کے بعد بھارتی ریاست تامل ناڈو ہی کے شہر چنئی (سابقہ مدراس) میں 19ویں صدی کی ایک یادگاری تختی اچانک ایک اہم سیاحتی مقام بن چکی ہے اور یہ سیلفی لینے والوں کی بھی پسندیدہ جگہ بن چکی ہے۔
یہ یادگاری تختی دراصل برطانوی جہاز کے ایک کپتان کرسٹوفر بائیڈن کے نام کی ہے جس پر ان کی وفات کا سن 1858 درج ہے، انہی کرسٹوفر بائیڈن کے متعلق کہا جارہا ہے کہ یہ شاید یہ منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کے اجداد میں سے ہیں۔
باراک اوباما کے دور صدارت میں نائب صدر کی عہدے پر براجمان جوبائیڈن نے 2013 میں بھارت کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھاکہ 1972میں جب وہ پہلی مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے تو انہیں ممبئی سے بائیڈن نامی ایک شخص نے خط بھیجا تھا اورکہا تھاکہ ممکنہ طور پر وہ دونوں رشتہ دار ہیں۔
بائیڈن نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئےکہا تھاکہ انہیں افسوس ہے کہ انہوں نے اس شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔بعد ازاں 2015 میں امریکا میں بھارت سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے بتایا تھاکہ ان کے پر دادا کے دادا جارج بائیڈن کے دو بھائی ایسٹ انڈیا کمپنی میں کپتان تھے اور وہ ایک بھارتی خاتون کے ساتھ شادی کرکے بھارت میں ہی مقیم ہوگئے تھے۔
ایک خبر کے مطابق جوبائیڈن نے بتایا تھاکہ ان دونوں بھائیوں کے نام ولیم ہنری بائیڈن اور کرسٹوفر بائیڈن تھے۔
چنئی کے بشپ نے فرانسیسی خبر ایجنسی کو بتایا کہ دستاویزات کے مطابق ہم دو بھائیوں ولیم بائیڈن اورکرسٹوفر بائیڈن کو جانتے ہیں جو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی جہاز میں کپتان تھے ، ولیم بائیڈن نوجوانی میں ہی چل بسے تھے جب کہ کرسٹوفر بائیڈن نے متعدد بحری سفر کیے اور آخری عمر میں چنئی (مدراس) میں ہی سکونت اختیار کرلی۔
تاہم ان قیاس آرائیوں سے یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ 77 سالہ جوبائیڈن کا تعلق ان دو بھائیوں سے ہے تاہم ماہرین کاکہنا ہےکہ اگر منتخب امریکی صدر کا کسی قسم کا تعلق بھارت سے ہے توکرسٹوفر بائیڈن ہی وہ شخص ہوسکتے ہیں جن سے ان کی رشتہ داری ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب بھارت کے شہر ناگپور میں موجود ایک بائیڈن خاندان کا کہنا ہے کہ جب سے جوبائیڈن انتخاب میں کامیاب ہوئے ہیں وہ لوگ فون کالز سن کر تھک گئے ہیں۔
خیال رہے کہ ناگپور اور ممبئی میں بھی بائیڈن خاندان موجود ہے جوکہ مبینہ طور پر کرسٹوفر بائیڈن کے خاندان سے ہیں۔ممبئی میں موجود بائیڈن خاندان میں سے آنجہانی لیزلے بائیڈن نے ہی جوبائیڈن کو خط لکھا تھا۔
خاندان کی ایک فرد رووینہ بائیڈن کاکہنا ہے کہ وہ لوگ منتخب امریکی صدر سے تعلق بنانے کی کوشش نہیں کررہے ، امریکی صدارتی عہدے پر بائیڈن کے لیے نیک خواہشات ہیں، ہمارا خاندان مالی طور پر مستحکم ہے اور ہمیں ان سےکسی قسم کی طلب نہیں، ہمارا ان سے تعلق اتنا ہے کہ آخری نام ہم لوگوں کاایک جیسا ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ جوبائیڈن سے ممکنہ تعلق کے حوالے سے جب پہلی خبر آئی تھی تو ہرکوئی ہماری تلاش میں گھر پہنچ جاتا تھا اور جوبائیڈن کی جیت کے بعد تو ہماری نجی زندگی بھی بہت متاثر ہوئی ہے اور اس سے پورے خاندان کو نمٹنا پڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں