22

فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے فرانس کی معیشت کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟

ملتان(اجالا نیوز-28اکتوبر-2020)
مسلم ممالک کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے فرانس کی معیشت کو تقریباً 46 ارب ڈالرز تک کا براہ راست نقصان ہوسکتا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اسلام مخالف بیان اور حضرت محمدﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کو نہ روکنے کے بیان کے بعد کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہے۔
فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کا اعلان سب سے پہلے ترک صدر کی جانب سے کیا گیا تھا جس کے بعد اس وقت کویت، اردن اور قطر سمیت کئی ممالک کے اسٹورز سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹا دیا گیا ہے۔
فرانس کا مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ تجارت کا کل حجم 100 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے جس میں فرانس کی برآمدات45.8 ارب ڈالر ہیں۔
اب حال ہی میں ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی (اے اے) کی جانب سے ڈیٹا مرتب کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر تمام تر مسلم ممالک فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں گے تو اس سے فرانس کی معیشت کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے۔
مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق فرانس کی مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ ہر سال تجارت کا حجم 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں فرانس سے مسلم ممالک 45.8 ارب ڈالر کی مصنوعات خریدتے ہیں جب کہ مسلم ممالک سے فرانس 58 ارب ڈالرز کی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔
اس لیے اگر تمام مسلم ممالک میں فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا تو اس سے فرانس کی معیشت پر تقریباً 46 ارب ڈالر کا براہ راست اثر پڑے گا۔
خیال رہے کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت خارجہ نے عرب ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
فرنچ وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’بائیکاٹ کے یہ مطالبات بے بنیاد ہیں اور ہمارے ملک کے خلاف ایک بنیاد پرست اقلیت کے حملوں کو فوری رکنا چاہیے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں