16

آئی جی سندھ کے اغواء کی ایف آئی آر درج نہ کروانے پر سوال اٹھنے لگے۔

آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر کو اغوا کیا گیا تو ان کی طرف سے اب تک اس واقعے کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کروائی گئی؟ مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس۔

اسلام آباد (اجالا نیوز۔ 22 اکتوبر2020ء)
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ اگر آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر کو اغوا کیا گیا تو ان کی طرف سے اس واقعے کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کروائی گئی؟ ، مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مل کر کوئی کھیل کھیلا جارہا ہے ، جہاں ملک و قوم کی بدنامی کیلئے سیاسی سرکس لگایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آئی جی سندھ کو وفاقی ادارے کے اہلکار اٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن مراد علی شاہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا؟ ، آئی جی سندھ کو اغوا کیا گیا تو انہوں نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کروائی گئی؟ ، یہ کس قسم کا آئی جی ہے جس نے اب تک واقعے کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کروائی ، آئی جی اغوا ہوئے تو اس کا پرچہ بھی سندھ حکومت کو بھی کاٹنا ہے ، آئی جی ان کا نام لیں جنہوں نے ان کو اغوا کیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ نے کہا کہ مزار قائد واقعے کی پولیس نے ایف آئی آر درج کی ، جس کے بعد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر گرفتار ہوئے، سب نے دیکھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو سندھ پولیس کی گاڑیوں میں قابل ضمانت جرم میں لے جایا گیا ، اگر یہ کام ہمیں کرنا ہوتا تو ہماری طرف سے قابل ضمانت دفعات کے تحت درخواست نہ دی جاتی ، سندھ پولیس کی طرف سے ایک ٹوئٹر بیان سامنے آیا کہ کارروائی قانون کے مطابق کی کی گئی ، بعد ازاں سندھ پولیس نے اپنا بیان ہٹادیا ، سب جانتے ہیں سندھ پولیس کو احکامات کہاں سے ملتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن نے آئی جی سندھ مشتاق مہر کے مبینہ اغواء کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو قرار دے دیا ، شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ آئی جی سندھ کے گھر کے محاصرے اور اغوا کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان پر عائد ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کو اغواء کرکے مقدمہ درج کرنے کا دباؤ ڈالا گیا، آئی جی کے گھر کا محاصرہ کرنے والے دونوں ادارے وفاق کے ماتحت ہیں ، دونوں اداروں کے سربراہان وزیراعظم سے ہدایات لیتے ہیں، آئی جی سندھ تمام واقعے کا مقدمہ درج کرانے سے قاصر ہیں، جس ملک میں اعلیٰ افسران کو اغوا کیا جائے وہاں کون خود کو محفوظ تصور کرسکتا ہے ، دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے اس سارے معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اسی لیے بلاول بھٹوزردری کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تمام واقعے کی تحقیقات کی درخواست کی گئی ، لیکن ہوٹل کے کمرے ک دروزہ توڑنے کی تحقیقات آرمی چیف کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ، آرمی ایکٹ کے تحت وہ صرف اپنے افسران کی تفتیش کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں