14

موٹروے کیس: ملزم عابد کی گرفتاری میں تاخیر کیوں ہوئی؟

ملتان(اجالا نیوز-13اکتوبر-2020)
آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہےکہ موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد مانگا منڈی میں اپنے باپ سے ملنے گیا اور اسے وہیں گرفتار کرلیا گیا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے بتایا کہ عابد ملہی کی گرفتاری کے لیے 9 ٹیمیں تشکیل دی تھیں، ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے مقامات بدلتا رہا۔
آئی جی پنجاب نےکہا کہ موٹر وے کیس میں ایک ملزم کو چند دن میں گرفتار کرلیا تھا، عابد ملہی فورٹ عباس، چنیوٹ اور مانگا منڈی سمیت مختلف اضلاع میں گیا، بالامستری نے عابد کو اطلاع کردی تھی کہ اس کی تصویرٹی وی پرچل رہی ہے، ٹی وی پر تصویر کی اطلاع کی وجہ سے عابد کی گرفتاری میں تاخیر ہوئی۔
انعام غنی نے مزید بتایا کہ عابد کو مانگا منڈی سے پولیس نے گرفتار کیا، ملزم کئی روز تک چنیوٹ میں ایک زمیندار کے ڈیرے پر روپوش رہا، اس کو اس کے سالے کے موبائل نمبر کی مدد سے ٹریس کیا گیا لیکن عابد نے اپنے سالے کا موبائل استعمال کرکے پھینک دیا۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ عابد کے والد اور بیوی کو پولیس نے چھوڑ دیا تھا، ملزم مانگا منڈی اپنے باپ سے ملنے گیا تو پولیس ٹیم وہاں موجود تھی اور ملزم گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوا تو اسے پکڑ لیا گیا۔
واقعے کا پسِ منظر:
9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔
2 افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایف آئی آر کےمطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔
کار کا پیٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔
جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔
ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئےاور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوؤں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔
خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا اور خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نےمقدمہ درج کیا۔پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں