کسی بھی لیڈر کو جانچنے کے بہترین اصول۔ 151

کسی بھی لیڈر کو جانچنے کے بہترین اصول۔

ملتان کالم نگار(بلال سیال-12اکتوبر-2020)
تاریخ انسانی کے کسی بھی دور کی مثال لے لیں، کسی لیڈر کو جانچنے کیلئے اس کی نیت، ویژن، ارادہ اور عمل کو پرکھا جاتا ہے۔ جو شخص ان چاروں فیکٹرز پر پورا اترجائے، وہ تاریخ میں امر ہوجاتا ہے، جو ان میں سے کسی ایک میں بھی ڈنڈی مار جائے، تاریخ اسے کوڑے دان کی نظر کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے انتہا پسند معاشرے میں بھی آج تک قائداعظم کی عزت میں کوئی کمی نہ آسکی، حالانکہ ان کے اطراف بھی وڈیرے اور مفادپرست لوگ جمع تھے، ان کی جیب میں بھی کھوٹے سکے تھے، ان سے بھی سیاسی طور پر کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن تاریخ کا فیصلہ تھا کہ قائداعظم کی نیت، ویژن، ارادہ اور عمل سچا تھا، اس لئے انہیں تاریخ میں زندہ رکھا گیا، جبکہ ان کے بعد آنے والے کئی لیڈروں کے نام بھی شاید اس قوم کو یاد نہ ہوں۔
عقل رکھنے والا ہر شخص یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ عمران خان کو ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے کس حالت میں یہ ملک سونپا۔ بانوے ارب ڈالر کا غیرملکی قرضہ، 120 ارب ڈالر کا اندرونی قرضہ، 20 ارب ڈالر کا تجاری خسارہ، پی آئی اے، واپڈا، سٹیل مل سمیت تمام بڑے بڑے ادارے ہر سال سینکڑوں ارب کے خسارے میں، سرکاری مشینری کرپٹ اور نااہل، عوام میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور دہشتگردی ۔ ۔ ۔ یہ ہے وہ پاکستان جو عمران خان کو ملا۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ عمران خان ملک کو درپیش سنگین مسائل کو حل کرنے کا کیا پروگرام دیتا تھا، کیا وہ روایتی شوباز منصوبے شروع کرتا، یا زرداری سٹائل انکم سپورٹ فنڈ لانچ کرکے اپنی جیبیں بھرتا؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ عمران خان نے معیشت کی بہتری کیلئے کیا منصوبہ بنایا۔
خان صاحب نے میرا گھر نامی پراجیکٹ لانچ کیا جس کے تحت چھت سے محروم غریب لوگوں کو سستے گھروں کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے گی۔ پہلے مرحلے میں پائلٹ پراجیکٹ ملک کے سات اضلاع میں شروع ہوگا جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
فیصل آباد، سکھر، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد کے نواحی علاقے، گلگت اور مظفر آباد۔
آپ ان اضلاع کی سیلیکشن پر نظر دوڑائیں، چاروں صوبوں کی نمائیندگی، گلگت، حتی کہ آزاد کشمیر تک کو پائلٹ پراجیکٹ میں شامل کیا گیا تاکہ ملکی وحدت کے حوالے سے مضبوط پیغام جائے۔ ن لیگ کی طرح تخت لاہور پر اسی فیصد بجٹ ضائع نہیں کیا بلکہ پورے ملک میں یکساں طور پر توازن برقرار رکھا گیا – یہ عمران خان کی نیک نیتی کا ثبوت ہے۔
کنسٹرکشن کو مدر آف آل انڈسٹریز یعنی تمام صنعتوں کی ماں کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے بے شمار دوسری صنعتیں جڑی ہیں جن میں سیمنٹ، سٹیل، ٹائلز، ماربل، ووڈ، سینیٹری، الیکٹرک، الغرض ہر وہ صنعت جو کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرسکتی ہے، وہ کنسٹرکشن کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کنسٹرکشن انڈسٹری دنیا کی سب سے بڑی لیبر انڈسٹری بھی ہے جس میں تقریبا ہر مہارت کے لوگ جڑے نظر آتے ہیں۔ ملک کی معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے لوکل انڈسٹری کو چلانا اور مقامی لیبر کو کھپانا بنیادی شرائط ہیں جو کہ عمران خان کے پچاس لاکھ گھروں کے پراجیکٹس سے ممکن ہوسکے گا۔ یہ عمران خان کے ویژن کا ثبوت ہے۔
آپ کے ذہن میں یقینناً آرہا ہوگا کہ ن لیگ کے دور میں میٹرو اور اورنج بھی تو کنسٹرکشن کے منصوبے تھے تو پھر ان میں اور عمران خان کے منصوبوں میں کیا فرق ہے؟ بنیادی فرق ان منصوبوں کی ایگزی کیوشن میں ہے۔ شہبازشریف نے ان پراجیکٹس میں چین کی ان کمپنیوں کو شامل کیا جنہوں نے کک بیکس دیئے، مقامی طور پر بھی صرف تین سے پانچ بڑے کانٹریکٹرز کو ہر پراجیکٹ دیا جس سے دولت کا ارتکاز چند کمپنیوں تک ہو گیا – دوسری طرف عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ پچاس لاکھ گھروں کے پراجیکٹ میں دس ہزار مقامی ٹھیکیداروں کو شامل کیا جائے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔ ٹھیکیداروں کی سیلیکشن کی پہلی ترجیح مقامی ضلع لیول کی ہوگی جس سے اس علاقے کی لیبر کو بھی فائدہ ہوگا اور مقامی مارکیٹ سے جڑے چھوٹے کاروباری حضرات کو بھی۔
اس پراجیکٹ کے ذریعے عمران خان نے ملک ریاض جیسے دوچار ٹھیکیدار بنانے کی بجائے ہزاروں کانٹریکٹرز ضلعی سطح پر اسٹیبلش کرنے کا پلان بنایا جس سے پاکستان کی کنسٹرکشن انڈسڑی کو بہت سپورٹ ملے گی۔ یہ عمران خان کے ارادے اور عمل کی سچائی کا ثبوت ہے۔
اس پراجیکٹ کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو نہ صرف میکرو لیول بلکہ مائیکرو لیول پر بھی بے تحاشہ فائدہ ہوگا ، اگر اللہ نے چاہا تو آپ دیکھیں گے کہ پانچ سال بعد پاکستان کا جی ڈی پی اتنی ترقی کرچکا ہوگا جتنی پچھلے بیس برس میں بھی نہیں ہوئی۔ ایک دفعہ لوکل انڈسٹری کا پہیہ چل پڑا، مقامی سطح پر نوکریاں پیدا ہونا شروع ہوں گی، جس سے پیسے کی سرکولیشن ہوگی اور یوں کئی دہائیوں سے جام معیشت اپنے پیروں پر نہ صرف کھڑی ہوجائے گی بلکہ چلنا بھی شروع کردے گی۔
کرونا وائرس کی وباء سے پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات پڑے….
انشا اللہ، آنے والے دنوں میں اللہ تعالی پاکستان پر اپنی رحمت کے خزانے کھولے گا کیونکہ ہم نے اس کی بنیادی شرط پر عمل کرتے ہوئے ایک ایماندار لیڈر کو اپنا حکمران بنا لیا۔ اللہ تعالی کی مدد شامل ہو کر رہے گی کیونکہ یہ میرے رب کا وعدہ ہے!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں