28

دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں خانہ جنگی کروانا چاہتی ہیں: شیخ رشید

ملتان(اجالا نیوزتازہ ترین۔10 اکتوبر ۔2020ء) وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کو بالکل ختم قرار نہیں دے سکتا، دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں خانہ جنگی کروانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہیں، جس کا نتیجہ ایک 10 سالہ بچے کو پتا ہے لاہور میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر سے ٹرینوں کے تمام پرانے ٹائم ٹیبل اور سٹاپ کو بحال کردیں گے.
انہوں نے کہا کہ ایک 3 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے اور جو پرائیویٹ ٹرینوں نے 5 فیصد سے زیادہ کرایہ بڑھایا تو ان سے 24 گھنٹوں میں ٹرینیں واپس لے لیں گے انہوں نے 16 مزید ٹرینوں کے پرائیویٹائز کرنے کا اعلان کیا جن میں میانوالی ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، سرسید ایکسپریس، نارووال، مہران، شالیمار ایکسپریس، بدر اور موہن جو دڑو ایکسپریس شامل ہے تاہم اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ کوئی کرایہ نہیں بڑھے گا.
انہوں نے کہا کہ امریکی جریدے فارن پالیسی نے مودی حکومت کو ایک دہشت گرد اور انتہا پسند لوگوں سے مل کر دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات کرانے کی حکومت کہا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن سے 50 سوالات کیے ہیں لیکن کوئی سوال نہیں آیا لیکن اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ کورونا پھیلنے اور دہشت گردی کا بھی اندیشہ ہے. شیخ رشید نے کہا کہ اس ملک، قوم کو عدم استحکام میں داخل کرنے کی بھرپور کوشش ہے جبکہ ملک کی بہادر فوج کے خلاف ایک سازش ہورہی ہے جس میں غیر ملکی طاقتیں موجود ہیں انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت، معیشت، استحکام فوج ہے انہوں نے کہا کہ مولانا مفتی محمود نے یہ جملہ پیش کیا تھا اور انہوں نے بھی سلیکٹڈ اور دھاندلیوں کی بات کی تھی، اس کا جو نتیجہ نکلا تھا اس پر میں بات نہیں کرنا چاہتا.
انہوں نے کہا کہ کورونا پھیل سکتا ہے اور دہشت گردی کے واقعات ہوسکتے ہیں جبکہ 31 دسمبر اور 20 فروری کی تاریخ پر میں قائم ہوں، مزید یہ کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے بھی اپوزیشن کو صاف جواب دے دیا ہے اپنے سیاسی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن کو خبردار کیا کہ یہ نہ ہو کہ آپ ساری عمر پچھتائیں، روئیں اور ٹانگوں سے نیچے ہاتھ ڈال کر کانوں کو لگائیں.
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک فوج کا عزم ہے کہ دنیا ادھر سے ادھر ہوسکتی ہے لیکن پاکستان میں عدم استحکام پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو باہر گئے ہوئے تقریباً ایک سال ہوگیا ہے، ان کا نہ کوئی آپریشن ہوا ہے اور نہ وہ ہسپتال گئے ہیں جبکہ سارے ڈاکٹرز اور قوم کو بیوقوف بنا کر وہ لندن واپس جاکر بیٹھ گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسا گیم دوبارہ بنے اور سعودی عرب والی نئی چال چلیں کہ ان کے لیے رعایت کا گیم ہوجائے مولانا فضل الرحمان سے متعلق انہوں نے کہا کہ آپ جو مذہبی کارڈ کھیلنے جارہے ہیں، ہم ساری زندگی اس مذہبی کارڈ کے لیے استعمال ہوئے ہیں، ہم مدارس کو دین کا عظیم منار سمجھتے ہیں لیکن دنیا بہت بدل چکی ہے.
انہوں نے کہا کہ شاید آپ کو اندازہ نہیں کہ اس کے نتائج کیا نکل سکتے ہیں دنیا جس بحران سے گزرہی ہے اس میں پاکستان کی سالمیت، ترقی و بقا میں فوج کا کلیدی کردار ہے جو ملک کی فوج سے لڑنے کے لیے نکل رہے ہیں وہ پاکستان کے دشمنوں کے کہنے میں ہیں. ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ مریم نواز اور شہباز شریف نااہل ہیں تو پیچھے رہ کون گیا ہے؟، اگر کبھی صورتحال بنتی ہے تو وہ اس کے لیے لمبا کھیل، کھیل رہا ہے انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر سے 20 فروری تک نتیجہ نکل آئے اور یہ 4 ماہ بڑے اہم ہیں.
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی استعفیٰ نہیں دے گی کیونکہ ان کی پنجاب میں نشستیں بہت کم ہیں اور سندھ سے وہ مستعفی ہوگی تو انہیں اگلی مرتبہ سندھ بھی نہیں ملے گا شیخ رشید نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کو بالکل ختم قرار نہیں دے سکتا، دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں خانہ جنگی کروانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہیں، جس کا نتیجہ ایک 10 سالہ بچے کو پتا ہے.
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی 9 نشستیں ہیںتاہم وہ خود انتخابات میں ہار گئے تھے لہذا وہ جتنا مرضیٰ دعویٰ کرلیا ان کی جماعت کے اراکین مستعفی نہیں ہونگے ‘انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان نے مدرسوں کو اکٹھا کرنا ہے اور ان مدارس کے طلبہ کو جھونکا ہے. شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں نے نواز شریف کے باہر جانے کے لیے ووٹ دیا تھا بغاوت سے متعلق مقدمے پر انہوں نے کہا کہ پولیس تفتیش کرے جو غداری میں مرتکب نہ ہو تو انہیں چھوڑ سکتی ہے اور اگر آزاد کشمیر کا وزیراعظم نہیں ہے تو انہیں چھوڑ سکتی ہے.
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بین الاقوامی سازش کے تحت یہ سوچ رہا ہے کہ پاک فوج سوئی ہوئی ہے تو بھول جاﺅ‘شیخ رشیدنے کہا کہ جلسہ، جلوس اپوزیشن کا حق ہے لیکن اگر انہوں نے جلاﺅ گھیراﺅ کیا تو قانون حرکت میں آئے گاانہوں نے کہا کہ عمران خان کو بغاوت کے مقدمے کا نہیں پتا تھا یہ چھوٹے لیول پر ہوا ہے. وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے تو اس مرتبہ ہتھوڑ اہوگا، گھبرائیں نہیں، ان کو کچھ نہیں ملتا، سورج مشرق سے مغرب میں نکل آئے لیکن فضل الرحمان، نواز شریف، آصف زرداری کی کوئی سیاست نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں