31

صحت مند طرز زندگی گزارنے کے لئے صحت بخش اور معیاری غذا کا انتخاب خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ہم میں سے اکثریت صرف اس نقطہ نظر پر عمل کرنا شروع کر دیتی ہے کہ صحت بخش غذا کا انتخاب یقینی بنانا ہے جو کہ کسی حد تک درست بھی ہے تاہم غذا کا ،خواہ وہ صحت بخش ہی کیوں نا ہو اعتدال کے ساتھ استعمال بھی لازم ہے۔ اگر انڈوں کی بات کی جائے تو اس میں کوئی دورائے نہیں کہ انڈہ ایک صحت بخش اور مفید غذا ہے تاہم بے اعتدالی کے ساتھ انڈوں کا استعمال بھی انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک نئی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ضرورت سے زائد یعنی دن میں دو بار انڈوں کا استعمال امراض قلب کے امکانات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
امریکہ میں ہونے والے مطالعے میں 30000سے زائد افراد نے حصہ لیا جس میں ان افراد نے عام لوگوں کے مقابلے روزانہ خوراک میں ایک سے زائد انڈے کا استعمال کیا۔
نتیجتاً یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد میں امراض قلب کے امکانات عام لوگوں کے حساب سے قدرے زیادہ ہیں۔
کے محققین نے بتایا کہ ”ہمیں ایسے کولیسٹرول کی مقدار کم سے کم کرنا چاہئے جو کہ انڈوں اور پروسیسڈ فوڈ یا گائے کے گوشت میں پایا جاتا ہے۔ اس کولیسٹرول کا ضرورت سے زائد ذخیرہ ہماری صحت کے لئے انتہائی مضر صحت ہے۔“
جاما نامی جنرل میں شائع کئے گئے مطالعے میں بتایا گیا ہفتے میں 3سے 4انڈے کھانے والے افراد میں امراض قلب ظاہر ہونے کے امکانات 6فیصد بڑھ جاتے ہیں جبکہ ایسے افراد میں اموات کی شرح 8فیصد زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔
جبکہ 300ملی گرام ڈائٹری فائبر کا روزانہ استعمال بھی امراض قلب اور اموات کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نوریناایلن نے گفتگو کے دوران بتایا صحت مند طرز زندگی گزارنے کے لئے لازم ہے کہ خراب کولیسٹرول پر قابو پایا جائے۔ ایک جائزے کے مطابق کولیسٹرول انڈے خصوصاً اس کی زردی میں پایا جاتا ہے۔
چنانچہ ایسی غذائیں جن میں کولیسٹرول کی مقدار زائد ہو ان کا استعمال ترک کرنا ضروری ہے جبکہ محتاط استعمال کرنے والے افراد امراض قلب کے خطرے سے محفوظ رہتے ہیں۔
انڈوں اور امراض قلب کے درمیان تعلق اب تک کئی سائنسی تحقیقات کا موضوع رہ چکا ہے۔ ماضی میں ایسے کئی مطالعے کئے گئے ہیں جن کے مطابق انڈوں کی مقدار کا امراض قلب سے کوئی تعلق نہیں ثابت ہوا۔ تاہم برٹش کی سینئر ماہر غذائیت وکٹوریا کی رائے میں اس تعلق کو واضح طور پر سمجھنے کے لئے اس پر مزید تحقیق کی جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ”محض صحت مند غذا کا استعمال ہی کافی نہیں ہوتا۔
بلکہ اس کے استعمال میں توازن قائم کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر کسی ایک غذا کا استعمال باکثرت کیا جاتا ہے تو ہماری ڈائٹ میں دیگر مفید غذاؤں کے لئے گنجائش باقی نہیں رہ پاتی۔“
”انڈے غذائیت سے بھرپور غذا ہیں ان مطالعوں میں جہاں ان کی مناسب مقدار پر زور دیا جا رہا ہے وہیں اس بات پر روشنی ڈالنا بھی نہایت ضروری ہے کہ ان کی تیاری کس انداز سے کی جا رہی ہے۔
مثال کے طور پر اناج سے تیار کردہ ٹوسٹ کے ساتھ ہاف بوائل انڈے کا استعمال روایتی تلے ہوئے انڈے کے مقابلے میں زیادہ غذائیت سے بھرپور اور مناسب انتخاب ہے۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ ”لوگوں کے کھانے کے انداز میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ایونٹ کی بنیاد پر حتمی رائے قائم کرنا درست نہیں۔ انڈے اور کولیسٹرول کے اس تعلق پر مزید تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔“
کنگ کالج لندن کے پروفیسرٹام نے بتایا کہ ”امریکہ میں رہنے والے افراد کے کولیسٹرول کے اوسطاً استعمال کی بات کی جائے تو یہ روزانہ کے حساب سے 600ملی گرام ہے جو کہ برطانیہ کے رہائشیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جو روزانہ تقریباً 225ملی گرام تک کولیسٹرول کا استعمال کرتے ہیں۔ ہفتے میں 3سے 4انڈوں کا استعمال مناسب ہے جو کہ برطانیہ کی حالیہ ڈائٹری گائیڈ لائن ہے۔ اس موضوع پر تقریباً 17.5سال کم و بیش 6مطالعے کئے گئے ہیں جس میں 29,615امریکی باشندوں نے حصہ لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں